خود انکاری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - نفی ذات، انکسار و عجز، منکسر المزاجی۔ "خود انکاری کا جوہر ترکوں کے رگ و ریشے میں ہے۔" ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١٦٩ )
اشتقاق
فارسی سے ماخوذ لفظ 'خود' کے بعد عربی سے مشتق اسم 'انکار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب 'خودانکاری' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١١ء، کو "باقیات بجنوری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نفی ذات، انکسار و عجز، منکسر المزاجی۔ "خود انکاری کا جوہر ترکوں کے رگ و ریشے میں ہے۔" ( ١٩١١ء، باقیات بجنوری، ١٦٩ )
جنس: مؤنث